قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، ایس ایم کرشنا کو متبادل بنانے کی کوشش
بنگلورو۔23؍جون(ایس او نیوز/عبدالحلیم منصور) حکمران کانگریس پارٹی میں دن بدن اختلافات گہرے ہوتے جارہی ہیں تو وہیں قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ بھی شدت اختیار کرتا جارہاہے۔ پارٹی سے برہم اراکین اسمبلی بی سرینواس پرساد ، قمر الاسلام ، امبریش، ڈاکٹر مالکا ریڈی، مالکیا گتے دار، کے ساتھ مزید چالیس اراکین اسمبلی کے شامل ہونے کی توقع ہے، جس سے کانگریس قیادت پریشان نظر آرہی ہے۔ برہمی پر قابو پانے اور اراکین اسمبلی کو منانے اے آئی سی سی جنرل سکریٹری وریاست میں پارٹی کے امور کے انچارج ڈگ وجئے سنگھ کل شہر پہنچنے والے ہیں ، جو برہم اراکین اسمبلی سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں منانے کی کوشش کریں گے۔ اس دوران کے پی سی سی کے نونامزد کاگذار صدر دنیش گنڈو راؤ نے آج ویر سرینواس پرساد اور امبریش سے ملاقات کی اور انہوں نے گذارش کی کہ کوئی بھی لیڈرپارٹی سے الگ نہیں ہوں گے، تاہم برہمی عنقریب ختم کرلی جائے گی۔اس دوران برہم اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعلیٰ ایس ایم کرشنا سے رابطہ کیا ہے۔بتایاجاتاہے کہ کرشنانے بھی تمام برہم اراکین سے بذریعہ فون تبادلۂ خیال کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ جذبات میں آکر کوئی قدم نہ اٹھائیں۔ آپس میں بات چیت کے ذریعہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اب چند سینئر قائدین کے ذریعہ قیادت میں تبدیلی کی مانگ کی جارہی ہے جسے سدرامیا کی نیند حرام ہوگئی ہے۔ اکثر اراکین اسمبلی سدرامیا کے یک طرفہ فیصلوں سے ناراض ہیں۔ اور کابینہ سے بے دخل ہونے والے سابق وزراء کا الزام ہے کہ بے دخلی سے قبل انہیں اعتماد میں لینے کی کوشش نہیں کی گئی ، اگر انہیں استعفیٰ دینے کہا جاتاتو وہ رضاکارانہ طور پر مستعفی ہوجاتے ۔ برہمی اراکین اسمبلی کے ذریعہ اعلیٰ مکان کو سدرمیان کے رویہ کے خلاف شکایت کی جائے گی۔ اس دوران برہم اراکین اسمبلی نے ایس ایم کرشنا کو متبادل قائد کے طور پر پیش کرنے کا سلسلہ شروع کردیاہے، گزشتہ ایک ہفتہ سے ممبئی میں مقیم کرشنا سے ملاقات کیلئے اراکین اسمبلی روانہ ہونے کی تیاری میں تھے کہ کرشنا نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ممبئی نہ آئیں۔تاہم بات چیت کے ذریعہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا۔ برہم اراکین اسمبلی کے ذریعہ ہم خیال اراکین اسمبلی کو متحد کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیاگیا ہے۔
استعفیٰ کے فیصلے کا اعلان کرنے والے افضل پور کے رکن اسمبلی مالکیا گتے دار نے بتایاکہ دو تین دن میں ہم خیال اراکین اسمبلی کا اجلاس منعقد ہونے والا ہے، جس میں متفقہ فیصلہ لیا جائے گا۔ تک تک وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔ اس دوران ریاست میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے متعلق اعلیٰ کمان نے وزیراعلیٰ سدرامیا سے رپورٹ طلب کی تھی۔جس پر انہوں نے رپورٹ روانہ کردی ہے۔ اس دوران سابق وزراء قمر الاسلام اور بابو راؤ چنچن سور کے الزامات پر وضاحت کرتے ہوئے لوک سبھا میں کانگریس پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ملیکارجن کھرگے نے واضح کیا کہ کابینہ میں ردوبدل کے عمل میں ان کی کوئی مداخلت نہیں رہی۔اعلیٰ کمان کی ہدایت کے مطابق وزیراعلیٰ سدرامیا نے کابینہ میں ردوبدل کیا ہے۔ کابینہ سے بے دخل ہونے والے وزراء نے الزام عائد کیاتھاکہ سدرامیا اور کھرگے کی سازش کے تحت انہیں بے دخل کیا گیا ہے، اور کھرگے نے اپنے فرزند کو کابینہ میں شامل کرانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ جس پر کھرگے نے واضح کیا کہ وہ اقلیت مخالف نہیں ہیں ۔گزشتہ کونسل انتخابات میں کراس ووٹنگ کے سبب جب اقبال احمد سرڈگی کو شکست ہوئی تھی تب انہوں نے ضد کرتے ہوئے سرڈگی کو کونسل کیلئے نامزد کرانے میں کامیابی حاصل کی تھی، اسی طرح کے سی کونڈیا کو ٹکٹ دینے کیلئے پارٹی حلقہ میں شدید مخالفت کے باوجود بھی انہوں نے کونڈیا کو ٹکٹ دلانے کے ذریعہ پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کی تھی۔ کونسل میں خواتین کی نمائندگی کے پیش نظر اس مرتبہ وینا آچیا کو ٹکٹ دے کر کامیاب بنایا گیا۔انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں کبھی کسی کے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش نہیں کی ہے۔